My Dearest Sis…!!!
06 Feb 2012 Leave a Comment
in Dedications, My Poems, Uncategorized Tags: Uncategorized
This little piece of my poetry is dedicated to my sweet little sis (as is evident from the title… lol), to let her know that she means a world to me… and to wish her happy buday
… May you have many many more happy ones … and may your smile never wane.
When you walked in to my life,
Like an angel pure,
At that moment
I was perfectly sure
All those prayers
That I begged of HE,
And GOD had finally
Answered me
Your simple hello
Would make me smile,
No grief would come
Within a mile
I can hear you talk
All day long,
All your words
Are like a favorite song
You are always there
In my thoughts and heart,
You never leave me
Even when we are apart
Always for you
To God I pray,
No harm, how small
May come your way
With all your grieves
Me, He may bless,
And you with all my
Joys and success
Whenever I am lonely
It’s you I miss,
I am never complete without you
MY DEAREST SIS…!!!
تھا کتنا مان مُجھے اُس پر
31 Dec 2011 6 Comments
in My Poems
تھا کتنا مان مُجھے اُس پر، بیاں میں کر نہیں سکتا
میں اُس کی بے وفایئ کا، کبھی زخم بھر نہیں سکتا
جو کرنا تھا مجھے تنہا، کیے وعدے کیوں پھر مُجھ سے
محبت کا عہد میں اب، کسی سے کر نہیں سکتا
ستم در ستم کتنے ہی، اُس نے ڈھائے ہیں مجھ پر
پہاڑ اِن دُکھوں کا تو، اب میں سر نہیں سکتا
برسہا برس رہے ہیں، فقط ہجر ہی کے سلسلے
کسی کے دُور جانے سے بھی، اب تو ڈر نہیں لگتا
زندگی مانگنے پر بھی، کہیں سے نہیں ملتی
اُس پر یہ ستم کہ، سکُوں سے مر نہیں سکتا
کبھی تُم لوٹ کے آؤ
20 Oct 2011 3 Comments
کبھی تُم لوٹ کے آؤ
مجھے بس اتنا سمجھاؤ
کہاں سے سیکھ لی تُم نے
ادا مجھ کو بھُلانے کی
تُمہیں مُجھ سے شِکوا تھا
یا ں کویٔ بھی شکایت تھی
زحمت تو زرا سی تھی
نہ کی کوشِش بتانے کی
بھلا یوں چھوڑ کے اپنا
کویٔ اپنوں کو جاتا ہے
مسلسل دُکھ کی بارش میں
جیون بھر رُلاتا ہے
ابھی تو ریت گیلی ہے
ابھی سب نقش باقی ہیں
گٔیے قدموں پہ لوٹ آؤ
مجھے بس اتنا سمجھاؤ
کہاں سے سیکھ لی تُم نے
ادا مجھ کو بھُلانے کی
(For Get Me Not)
جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے
21 Sep 2011 Leave a Comment
کچھ یادیں ہیں اُن لمحوں کی
جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے
خُشیوں سے بھرے جزبات رہے
اِک عمر گزاری ہے ہم نے
جہاں روتے ہوے بھی ہستے تھے
کچھ کہتے تھے کچھ سُنتے تھے
ہم روز صبح جب ملتے تھے
تو سب کے چہرے کھلتے تھے
پُر لُطف وہ منظر ہوتا تھا
ہم سوچو کتنا ہستے تھے
وہ گونج ہماری ہسی کی
اب ایک پُرانی یاد بنی
یہ باتیں ہیں اُن لمحوں کی
جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے
(For Get Me Not)
Friend: A Gift of God
23 Jul 2011 1 Comment
in My Poems
Life is a journey
And on this road
A friend is what
But a gift of GOD !
A shoulder to share
A hand to hold
In times of fear
A shelter bold !
With there memories
Sweet or sour
They live in our hearts
Forever and more !
Some we forget
Some forget us
People come and go
All the time
A friend is someone
Who stays forever
One who is not affected
By place or time !
یونہی کہیں نہ وہ مجھے معاف کردے
23 Jul 2011 6 Comments
in My Poems
اے آسماں خاموش ہے کیوں
کیوں چُپ پڑا تو سویا ہے
گرج،برس، بھگو دے مجھ کو
دل خوں کے آنسو رویا ہے
خطا بھی اپنی ہی ہے ہماری
سزا بھی خُد کو یہ ہم نے دی ہے
شکوہ پھر کیسے کریں کسی سے
کاٹا وہی جو ہم نے بویا ہے
برس جا اب تو
قسم ہے تُجھ کو
نہ چھوڑ مجھ کو
تنہا ہوں میں
تیری ہی طرح
میری زندگی ہے
تیری شام جیسی
میرا بھی سفر ہے
تیری رات جیسا
جو بیٹھیں گے دونو ں
تو محفل سجے گی
کچھ تُو کہے گا
کچھ میں کہوں گا
مجھے تُو سنے گا
میں تیری سنوں گا
یہ مانا محبت
ہے مجھ کو اُس سے
نہ چاہے گا کو ئی
اُسے زیادہ مجھ سے
نہ تھا حق یہ مجھ کو
یوں دغا اُس سے کرتا
میں دامن کو اُس کے
بے وفائیوں سے بھرتا
سوچا مانگ لوں معافی
اُس بے ضرر سے
کے میری سب خطاؤں کو
تُو معاف کر د
مگر ڈرتا ہوں میں
نہ کہیں ایسا ہو کے
میری سب خطاؤں کو
وہ معاف کر دے
وہ بے لوث ہو کر
میرے سب زخم بھر دے
عادت سی ہو گئی ہے
اس درد کی اب مجھ کو
کہیں اس ہمسفر سے نہ
جُدا وہ مجھ کو کر دے
ابھی تو بہت سہنا ہے
اس درد کو مجھ کو
ابھی بہت جلنا ہے
پچھتاوے میں مجھ کو
کہاں یہ سزا میری
پوری ہوئی ہے
اک زندگی ہی تو بیتی ہے
کب مدت پُوری ہوی ہے
جبہی تو ڈرہے کہیں نہ
وہ میرے سب گناہوں کو
بس یونہی معاف کردے
میری زندگی میں جو تو نہی
02 Jul 2011 4 Comments
in My Poems
میری زندگی میں جو تو نہی
یہ تو بس میرا نصیب ہے
تُجھے کیسے یقیں یہ دلاؤں میں
تو میری سانسوں سے بھی قریب ہے
تیری سانسوں کو بھی جو چُھو سکے
تیرے ساۓ میں بھی جو چل سکے
تیری مہک سے جو مہک سکے
ہر وہ شخص میرا رقیب ہے
تُجھے دیکھ کر ہی میں جی سکوں
تیرے وجود ہی سے میں امر ہوں
تُجھے اور اب میں کیا کہوں
اِک تُو ہی میرا طبیب ہے
میرا عشق کُچھ گُناہ نہیں
کیوں ڈروں میں پھر جہان سے
نہ روک سکے گا اس جنون کو
یہ جو مساجدوں کا خطیب ہے
سو نہ ہو اُداس یہ یقین رکھ
یہ دُوریاں سب نصیب ہے
تُجھ سے کیسے میں رہوں گا جُدا
تُو میری سانسوں سے بھی قریب ہے





